قَدْ
خَسِرَ
الَّذِیْنَ
قَتَلُوْۤا
اَوْلَادَهُمْ
سَفَهًا
بِغَیْرِ
عِلْمٍ
وَّحَرَّمُوْا
مَا
رَزَقَهُمُ
اللّٰهُ
افْتِرَآءً
عَلَی
اللّٰهِ ؕ
قَدْ
ضَلُّوْا
وَمَا
كَانُوْا
مُهْتَدِیْنَ
۟۠
یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کرکے حرام ٹھیرالیا۔ یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہِ راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اولاد کے قاتل ٭٭…
اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں -دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بے اولاد یہ ہو جائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہو جائے گا۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہا
اولاد کے قاتل ٭٭…
اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں -دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام