وَقَالُوْا
مَا
فِیْ
بُطُوْنِ
هٰذِهِ
الْاَنْعَامِ
خَالِصَةٌ
لِّذُكُوْرِنَا
وَمُحَرَّمٌ
عَلٰۤی
اَزْوَاجِنَا ۚ
وَاِنْ
یَّكُنْ
مَّیْتَةً
فَهُمْ
فِیْهِ
شُرَكَآءُ ؕ
سَیَجْزِیْهِمْ
وَصْفَهُمْ ؕ
اِنَّهٗ
حَكِیْمٌ
عَلِیْمٌ
۟
اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔1 یہ باتیں جو انہوں نے گھڑلی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کررہے گا۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نذر نیاز ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کر دیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھات
نذر نیاز ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کر دیتے تھے ان کا دودھ صرف