الأحزاب 33:20 يحسبون الاحزاب لم يذهبوا وان يات الاحزاب يودوا لو انهم بادون في الاعراب يسالون عن انبايكم ولو كانوا فيكم ما قاتلوا الا قليلا ٢٠
یَحْسَبُوْنَ
الْاَحْزَابَ
لَمْ
یَذْهَبُوْا ۚ
وَاِنْ
یَّاْتِ
الْاَحْزَابُ
یَوَدُّوْا
لَوْ
اَنَّهُمْ
بَادُوْنَ
فِی
الْاَعْرَابِ
یَسْاَلُوْنَ
عَنْ
اَنْۢبَآىِٕكُمْ ؕ
وَلَوْ
كَانُوْا
فِیْكُمْ
مَّا
قٰتَلُوْۤا
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟۠
وہ سمجھتے ہیں کہ فوجیں ابھی گئی نہیں ہیں اور اگر فوجیں آجائیں تو یہ لوگ یہی پسند کریں گے کہ کاش ہم بدؤوں کے ساتھ دیہات میں ہوں ، تمھاری خبریں پوچھتے رہیں اور اگر وہ تمھارے ساتھ ہوتے تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دشمن کا خوف ٭٭…
ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر میں ہی نہ ہوتے بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا
دشمن کا خوف ٭٭…
ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے۔