اَشِحَّةً
عَلَیْكُمْ ۖۚ
فَاِذَا
جَآءَ
الْخَوْفُ
رَاَیْتَهُمْ
یَنْظُرُوْنَ
اِلَیْكَ
تَدُوْرُ
اَعْیُنُهُمْ
كَالَّذِیْ
یُغْشٰی
عَلَیْهِ
مِنَ
الْمَوْتِ ۚ
فَاِذَا
ذَهَبَ
الْخَوْفُ
سَلَقُوْكُمْ
بِاَلْسِنَةٍ
حِدَادٍ
اَشِحَّةً
عَلَی
الْخَیْرِ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
لَمْ
یُؤْمِنُوْا
فَاَحْبَطَ
اللّٰهُ
اَعْمَالَهُمْ ؕ
وَكَانَ
ذٰلِكَ
عَلَی
اللّٰهِ
یَسِیْرًا
۟
جوتمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔1 خطرے کا وقت آجائے تو اسطرح دِیدے پھراپھراکر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہورہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔2 یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ،اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کردیے۔ 3 اور ایسا کرنا اللہ کےلیے بہت آسان ہے۔4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار د