الأحزاب 33:16 قل لن ينفعكم الفرار ان فررتم من الموت او القتل واذا لا تمتعون الا قليلا ١٦
قُلْ
لَّنْ
یَّنْفَعَكُمُ
الْفِرَارُ
اِنْ
فَرَرْتُمْ
مِّنَ
الْمَوْتِ
اَوِ
الْقَتْلِ
وَاِذًا
لَّا
تُمَتَّعُوْنَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو } اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭…
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭…
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب