آل عمران 3:191 الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم ويتفكرون في خلق السماوات والارض ربنا ما خلقت هاذا باطلا سبحانك فقنا عذاب النار ١٩١
الَّذِیْنَ
یَذْكُرُوْنَ
اللّٰهَ
قِیٰمًا
وَّقُعُوْدًا
وَّعَلٰی
جُنُوْبِهِمْ
وَیَتَفَكَّرُوْنَ
فِیْ
خَلْقِ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ۚ
رَبَّنَا
مَا
خَلَقْتَ
هٰذَا
بَاطِلًا ۚ
سُبْحٰنَكَ
فَقِنَا
عَذَابَ
النَّارِ
۟
جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں کھڑے بھی بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد تو پیدا نہیں کیا ہے تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے) پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا !
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭…
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭…
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدن