فَلَمَّا
اسْتَیْـَٔسُوْا
مِنْهُ
خَلَصُوْا
نَجِیًّا ؕ
قَالَ
كَبِیْرُهُمْ
اَلَمْ
تَعْلَمُوْۤا
اَنَّ
اَبَاكُمْ
قَدْ
اَخَذَ
عَلَیْكُمْ
مَّوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
وَمِنْ
قَبْلُ
مَا
فَرَّطْتُّمْ
فِیْ
یُوْسُفَ ۚ
فَلَنْ
اَبْرَحَ
الْاَرْضَ
حَتّٰی
یَاْذَنَ
لِیْۤ
اَبِیْۤ
اَوْ
یَحْكُمَ
اللّٰهُ
لِیْ ۚ
وَهُوَ
خَیْرُ
الْحٰكِمِیْنَ
۟
جب وہ اس سے نا امید ہوگئے تووہ الگ ہوکر باہم مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمھارے باپ نے اللہ کے نام پر پکا اقرار لیا اور اس سے پہلے یوسف کے معاملہ میں جو زیادتی تم کرچکے ہو، وہ بھی تم کو معلوم ہے پس میں اس زمین سے ہرگز نہیں ٹلوں گا جب تک میرا باپ مجھے اجازت نہ دے یا اللہ میرے ليے کوئی فیصلہ فرمادے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہو گئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہو چکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھہر چکے اب بتاؤ کیا کیا
باب…
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہو گئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آ