يوسف 12:66 قال لن ارسله معكم حتى توتون موثقا من الله لتاتنني به الا ان يحاط بكم فلما اتوه موثقهم قال الله على ما نقول وكيل ٦٦
قَالَ
لَنْ
اُرْسِلَهٗ
مَعَكُمْ
حَتّٰی
تُؤْتُوْنِ
مَوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
لَتَاْتُنَّنِیْ
بِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّحَاطَ
بِكُمْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اٰتَوْهُ
مَوْثِقَهُمْ
قَالَ
اللّٰهُ
عَلٰی
مَا
نَقُوْلُ
وَكِیْلٌ
۟
Unke baap ne kaha “main isko hargiz tumhare saath na bhejunga jab tak ke tum Allah ke naam se mujhko paimaan (pledge) na de do ke isey mere paas zaroor wapas lekar aaogey, illa yeh ke kahin tum gher hi liye jao”. Jab unhon ne usko apne apne paiman de diye to usne kaha “dekho, hamare is qaul par Allah nigehbaan hai”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی علیہ السلام نے ان کا مال ومتاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کر دیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور
باب…
یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی علیہ السلام نے ان کا مال ومتاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کر دیا تھا۔ یہا