يوسف 12:63 فلما رجعوا الى ابيهم قالوا يا ابانا منع منا الكيل فارسل معنا اخانا نكتل وانا له لحافظون ٦٣
فَلَمَّا
رَجَعُوْۤا
اِلٰۤی
اَبِیْهِمْ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مُنِعَ
مِنَّا
الْكَیْلُ
فَاَرْسِلْ
مَعَنَاۤ
اَخَانَا
نَكْتَلْ
وَاِنَّا
لَهٗ
لَحٰفِظُوْنَ
۟
Jab woh apne baap ke paas gaye to kaha “abbajaan, aainda humko galla dene se inkar kardiya gaya hai, lihaza aap hamare bhai ko hamare saath bhej dijiye taa-ke hum galla lekar aayein aur uski hifazat ke hum zimmedaar hain”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھیجیں اگر انہیں ساتھ کر دیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بے فکر رہیے ہم اس کی نگہبانی کر لیں گے «نَكْتَلْ» کی دوسری قرأت «یُکْتَلْ» بھی ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ بس وہی
باب…
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھیجیں اگر انہیں ساتھ کر دیں