يوسف 12:62 وقال لفتيانه اجعلوا بضاعتهم في رحالهم لعلهم يعرفونها اذا انقلبوا الى اهلهم لعلهم يرجعون ٦٢
وَقَالَ
لِفِتْیٰنِهِ
اجْعَلُوْا
بِضَاعَتَهُمْ
فِیْ
رِحَالِهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَعْرِفُوْنَهَاۤ
اِذَا
انْقَلَبُوْۤا
اِلٰۤی
اَهْلِهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ
۟
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
کہتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر
باب…
کہتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ای