يونس 10:93 ولقد بوانا بني اسراييل مبوا صدق ورزقناهم من الطيبات فما اختلفوا حتى جاءهم العلم ان ربك يقضي بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون ٩٣
وَلَقَدْ
بَوَّاْنَا
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
مُبَوَّاَ
صِدْقٍ
وَّرَزَقْنٰهُمْ
مِّنَ
الطَّیِّبٰتِ ۚ
فَمَا
اخْتَلَفُوْا
حَتّٰی
جَآءَهُمُ
الْعِلْمُ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
یَقْضِیْ
بَیْنَهُمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
فِیْمَا
كَانُوْا
فِیْهِ
یَخْتَلِفُوْنَ
۟
'' ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جب کہ علم ان کے پاس آچکا تھا۔ یقینہ تیرا رب قیامت کے روز ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ''۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ٭٭…
اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں
بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ٭٭…
اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں