يونس 10:31 قل من يرزقكم من السماء والارض امن يملك السمع والابصار ومن يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي ومن يدبر الامر فسيقولون الله فقل افلا تتقون ٣١
قُلْ
مَنْ
یَّرْزُقُكُمْ
مِّنَ
السَّمَآءِ
وَالْاَرْضِ
اَمَّنْ
یَّمْلِكُ
السَّمْعَ
وَالْاَبْصَارَ
وَمَنْ
یُّخْرِجُ
الْحَیَّ
مِنَ
الْمَیِّتِ
وَیُخْرِجُ
الْمَیِّتَ
مِنَ
الْحَیِّ
وَمَنْ
یُّدَبِّرُ
الْاَمْرَ ؕ
فَسَیَقُوْلُوْنَ
اللّٰهُ ۚ
فَقُلْ
اَفَلَا
تَتَّقُوْنَ
۟
(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭…
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون بر
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭…
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا ح