يونس 10:15 واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قال الذين لا يرجون لقاءنا ايت بقران غير هاذا او بدله قل ما يكون لي ان ابدله من تلقاء نفسي ان اتبع الا ما يوحى الي اني اخاف ان عصيت ربي عذاب يوم عظيم ١٥
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِمْ
اٰیَاتُنَا
بَیِّنٰتٍ ۙ
قَالَ
الَّذِیْنَ
لَا
یَرْجُوْنَ
لِقَآءَنَا
ائْتِ
بِقُرْاٰنٍ
غَیْرِ
هٰذَاۤ
اَوْ
بَدِّلْهُ ؕ
قُلْ
مَا
یَكُوْنُ
لِیْۤ
اَنْ
اُبَدِّلَهٗ
مِنْ
تِلْقَآئِ
نَفْسِیْ ۚ
اِنْ
اَتَّبِعُ
اِلَّا
مَا
یُوْحٰۤی
اِلَیَّ ۚ
اِنِّیْۤ
اَخَافُ
اِنْ
عَصَیْتُ
رَبِّیْ
عَذَابَ
یَوْمٍ
عَظِیْمٍ
۟
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کی بدترین حجتیں ٭٭…
مکے کے کفار کا بغض دیکھئیے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔
دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک
کفار کی بدترین حجتیں ٭٭…
مکے کے کفار کا بغض دیکھئیے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو