يونس 10:11 ۞ ولو يعجل الله للناس الشر استعجالهم بالخير لقضي اليهم اجلهم فنذر الذين لا يرجون لقاءنا في طغيانهم يعمهون ١١
وَلَوْ
یُعَجِّلُ
اللّٰهُ
لِلنَّاسِ
الشَّرَّ
اسْتِعْجَالَهُمْ
بِالْخَیْرِ
لَقُضِیَ
اِلَیْهِمْ
اَجَلُهُمْ ؕ
فَنَذَرُ
الَّذِیْنَ
لَا
یَرْجُوْنَ
لِقَآءَنَا
فِیْ
طُغْیَانِهِمْ
یَعْمَهُوْنَ
۟
'' اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لئے ہم ان لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوٹ دے دیتے ہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں ٭٭…
فرمان ہے کہ ” میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آ کر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کربیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا، ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چ
اللہ تعالٰی اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں ٭٭…
فرمان ہے کہ ” میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آ کر، گھبرا کر اپنے لیے، اپ