قَالَ
اٰمَنْتُمْ
لَهٗ
قَبْلَ
اَنْ
اٰذَنَ
لَكُمْ ؕ
اِنَّهٗ
لَكَبِیْرُكُمُ
الَّذِیْ
عَلَّمَكُمُ
السِّحْرَ ۚ
فَلَاُقَطِّعَنَّ
اَیْدِیَكُمْ
وَاَرْجُلَكُمْ
مِّنْ
خِلَافٍ
وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ
فِیْ
جُذُوْعِ
النَّخْلِ ؗ
وَلَتَعْلَمُنَّ
اَیُّنَاۤ
اَشَدُّ
عَذَابًا
وَّاَبْقٰی
۟
فرعون نے کہا کہ تم نے اس کو مان لیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دیتا وہی تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے تو اب میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اورمیں تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور تم جان لوگے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت ہے اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭…
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭…
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھ