اِذْ
دَخَلُوْا
عَلٰی
دَاوٗدَ
فَفَزِعَ
مِنْهُمْ
قَالُوْا
لَا
تَخَفْ ۚ
خَصْمٰنِ
بَغٰی
بَعْضُنَا
عَلٰی
بَعْضٍ
فَاحْكُمْ
بَیْنَنَا
بِالْحَقِّ
وَلَا
تُشْطِطْ
وَاهْدِنَاۤ
اِلٰی
سَوَآءِ
الصِّرَاطِ
۟
جب وہ دائود ؑ کے پاس آئے تو وہ ان سے ڈرا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو مخالف فریق ہیں ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے اور آپ اسے ٹالیے نہیں اور سیدھی راہ کی طرف ہماری راہنمائی کیجیے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔
پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ
باب…
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیک