نوح 71:7 واني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا اصابعهم في اذانهم واستغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استكبارا ٧
وَاِنِّیْ
كُلَّمَا
دَعَوْتُهُمْ
لِتَغْفِرَ
لَهُمْ
جَعَلُوْۤا
اَصَابِعَهُمْ
فِیْۤ
اٰذَانِهِمْ
وَاسْتَغْشَوْا
ثِیَابَهُمْ
وَاَصَرُّوْا
وَاسْتَكْبَرُوا
اسْتِكْبَارًا
۟ۚ
اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے اور وہ ضد پر اَڑ گئے اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑا استکبار۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭…
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭…
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو