مريم 19:75 قل من كان في الضلالة فليمدد له الرحمان مدا حتى اذا راوا ما يوعدون اما العذاب واما الساعة فسيعلمون من هو شر مكانا واضعف جندا ٧٥
قُلْ
مَنْ
كَانَ
فِی
الضَّلٰلَةِ
فَلْیَمْدُدْ
لَهُ
الرَّحْمٰنُ
مَدًّا ۚ۬
حَتّٰۤی
اِذَا
رَاَوْا
مَا
یُوْعَدُوْنَ
اِمَّا
الْعَذَابَ
وَاِمَّا
السَّاعَةَ ؕ
فَسَیَعْلَمُوْنَ
مَنْ
هُوَ
شَرٌّ
مَّكَانًا
وَّاَضْعَفُ
جُنْدًا
۟
ان سے کہو ‘ جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اسے رحمن ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔۔۔۔ خواہ وہ عذاب الہٰی ہو یا قیامت کی گھڑی۔۔۔ تب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور !
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکوں سے مباہلہ ٭٭…
” ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطمینان کئے بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دیجئیے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے، انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے جب تک کہ قیامت نہ آ جائے یا ان کی موت نہ آ جائے۔ اس وقت انہیں پو
مشرکوں سے مباہلہ ٭٭…
” ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطمینان کئے بیٹھے ہوئے ہیں،