لقمان 31:7 واذا تتلى عليه اياتنا ولى مستكبرا كان لم يسمعها كان في اذنيه وقرا فبشره بعذاب اليم ٧
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِ
اٰیٰتُنَا
وَلّٰی
مُسْتَكْبِرًا
كَاَنْ
لَّمْ
یَسْمَعْهَا
كَاَنَّ
فِیْۤ
اُذُنَیْهِ
وَقْرًا ۚ
فَبَشِّرْهُ
بِعَذَابٍ
اَلِیْمٍ
۟
اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اُن کو سنا ہی نہیں جیسے اُن کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں۔
چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان