لقمان 31:15 وان جاهداك على ان تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا واتبع سبيل من اناب الي ثم الي مرجعكم فانبيكم بما كنتم تعملون ١٥
وَاِنْ
جَاهَدٰكَ
عَلٰۤی
اَنْ
تُشْرِكَ
بِیْ
مَا
لَیْسَ
لَكَ
بِهٖ
عِلْمٌ ۙ
فَلَا
تُطِعْهُمَا
وَصَاحِبْهُمَا
فِی
الدُّنْیَا
مَعْرُوْفًا ؗ
وَّاتَّبِعْ
سَبِیْلَ
مَنْ
اَنَابَ
اِلَیَّ ۚ
ثُمَّ
اِلَیَّ
مَرْجِعُكُمْ
فَاُنَبِّئُكُمْ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے ، اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭…
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ” انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی “۔ انہوں نے جو ب
لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭…
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے ب