لقمان 31:12 ولقد اتينا لقمان الحكمة ان اشكر لله ومن يشكر فانما يشكر لنفسه ومن كفر فان الله غني حميد ١٢
وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
لُقْمٰنَ
الْحِكْمَةَ
اَنِ
اشْكُرْ
لِلّٰهِ ؕ
وَمَنْ
یَّشْكُرْ
فَاِنَّمَا
یَشْكُرُ
لِنَفْسِهٖ ۚ
وَمَنْ
كَفَرَ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
غَنِیٌّ
حَمِیْدٌ
۟
اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی۔ کہ خدا کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
لقمان نبی تھے یا نہیں؟ ٭٭…
اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوا تو آپ نے
لقمان نبی تھے یا نہیں؟ ٭٭…
اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے