هود 11:91 قالوا يا شعيب ما نفقه كثيرا مما تقول وانا لنراك فينا ضعيفا ولولا رهطك لرجمناك وما انت علينا بعزيز ٩١
قَالُوْا
یٰشُعَیْبُ
مَا
نَفْقَهُ
كَثِیْرًا
مِّمَّا
تَقُوْلُ
وَاِنَّا
لَنَرٰىكَ
فِیْنَا
ضَعِیْفًا ۚ
وَلَوْلَا
رَهْطُكَ
لَرَجَمْنٰكَ ؗ
وَمَاۤ
اَنْتَ
عَلَیْنَا
بِعَزِیْزٍ
۟
اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب ٭٭…
قوم مدین نے کہا کہ ”اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں۔“ سعید رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ ”آپ علیہ السلام کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ علیہ السلام بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو خطیب الانبیاء
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب ٭٭…
قوم مدین نے کہا کہ ”اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں