لَا
یَسْـَٔمُ
الْاِنْسَانُ
مِنْ
دُعَآءِ
الْخَیْرِ ؗ
وَاِنْ
مَّسَّهُ
الشَّرُّ
فَیَـُٔوْسٌ
قَنُوْطٌ
۟
اور انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا،اور اگر اس کوکوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اوردل شکستہ ہوجاتا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آ جائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہو جاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھل
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر