فصلت 41:51 واذا انعمنا على الانسان اعرض وناى بجانبه واذا مسه الشر فذو دعاء عريض ٥١
وَاِذَاۤ
اَنْعَمْنَا
عَلَی
الْاِنْسَانِ
اَعْرَضَ
وَنَاٰ
بِجَانِبِهٖ ۚ
وَاِذَا
مَسَّهُ
الشَّرُّ
فَذُوْ
دُعَآءٍ
عَرِیْضٍ
۟
اور جب ہم انسان پر نعمتوں کی بارش کردیتے ہیں تو وہ رخ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بدل لیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آ جائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہو جاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھل
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر