فصلت 41:31 نحن اولياوكم في الحياة الدنيا وفي الاخرة ولكم فيها ما تشتهي انفسكم ولكم فيها ما تدعون ٣١
نَحْنُ
اَوْلِیٰٓؤُكُمْ
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَفِی
الْاٰخِرَةِ ۚ
وَلَكُمْ
فِیْهَا
مَا
تَشْتَهِیْۤ
اَنْفُسُكُمْ
وَلَكُمْ
فِیْهَا
مَا
تَدَّعُوْنَ
۟ؕ
ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں)۔ اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم کو (ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اسقامت اور اس کا انجام ٭٭…
جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کر کے پھر کفر کر لیا۔ ج
اسقامت اور اس کا انجام ٭٭…
جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی ز