فاطر 35:10 من كان يريد العزة فلله العزة جميعا اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه والذين يمكرون السييات لهم عذاب شديد ومكر اولايك هو يبور ١٠
مَنْ
كَانَ
یُرِیْدُ
الْعِزَّةَ
فَلِلّٰهِ
الْعِزَّةُ
جَمِیْعًا ؕ
اِلَیْهِ
یَصْعَدُ
الْكَلِمُ
الطَّیِّبُ
وَالْعَمَلُ
الصَّالِحُ
یَرْفَعُهٗ ؕ
وَالَّذِیْنَ
یَمْكُرُوْنَ
السَّیِّاٰتِ
لَهُمْ
عَذَابٌ
شَدِیْدٌ ؕ
وَمَكْرُ
اُولٰٓىِٕكَ
هُوَ
یَبُوْرُ
۟
جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔ اس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے ، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جو بےہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
عزت اللہ کے پاس ہے ٭٭…
جو شخص دنیا اور آخرت میں باعزت رہنا چاہتا ہو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت گذاری کرنی چاہیئے وہی اس مقصد کا پورا کرنے والا ہے، دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ ساری عزتیں اسی کی ملکیت میں ہیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ جو لوگ مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں کرتے ہیں کہ ان کے پاس ہماری
عزت اللہ کے پاس ہے ٭٭…
جو شخص دنیا اور آخرت میں باعزت رہنا چاہتا ہو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت گذاری کرنی چاہیئے وہی اس مقصد کا پورا کرنے والا ہے، دنیا او