الزخرف 43:58 وقالوا االهتنا خير ام هو ما ضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون ٥٨
وَقَالُوْۤا
ءَاٰلِهَتُنَا
خَیْرٌ
اَمْ
هُوَ ؕ
مَا
ضَرَبُوْهُ
لَكَ
اِلَّا
جَدَلًا ؕ
بَلْ
هُمْ
قَوْمٌ
خَصِمُوْنَ
۟
اور لگے کہنے کہ ہمارے معبُود اچھے ہیں یا وہ؟1 یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭…
«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔“
اس کی
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭…
«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسن