الزخرف 43:51 ونادى فرعون في قومه قال يا قوم اليس لي ملك مصر وهاذه الانهار تجري من تحتي افلا تبصرون ٥١
وَنَادٰی
فِرْعَوْنُ
فِیْ
قَوْمِهٖ
قَالَ
یٰقَوْمِ
اَلَیْسَ
لِیْ
مُلْكُ
مِصْرَ
وَهٰذِهِ
الْاَنْهٰرُ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِیْ ۚ
اَفَلَا
تُبْصِرُوْنَ
۟ؕ
اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
فرعون کے دعوے ٭٭…
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو
فرعون کے دعوے ٭٭…
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا