الزخرف 43:32 اهم يقسمون رحمت ربك نحن قسمنا بينهم معيشتهم في الحياة الدنيا ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات ليتخذ بعضهم بعضا سخريا ورحمت ربك خير مما يجمعون ٣٢
اَهُمْ
یَقْسِمُوْنَ
رَحْمَتَ
رَبِّكَ ؕ
نَحْنُ
قَسَمْنَا
بَیْنَهُمْ
مَّعِیْشَتَهُمْ
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَرَفَعْنَا
بَعْضَهُمْ
فَوْقَ
بَعْضٍ
دَرَجٰتٍ
لِّیَتَّخِذَ
بَعْضُهُمْ
بَعْضًا
سُخْرِیًّا ؕ
وَرَحْمَتُ
رَبِّكَ
خَیْرٌ
مِّمَّا
یَجْمَعُوْنَ
۟
کیا تیرے ربّ کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں ، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دُوسرے لوگوں پر ہم نے درجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دُوسرے سے خدمت لیں۔1 اور تیرے ربّ کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس)سمیٹ رہے ہیں۔2
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تما
باب…
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے