التوبة 9:50 ان تصبك حسنة تسوهم وان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ويتولوا وهم فرحون ٥٠
اِنْ
تُصِبْكَ
حَسَنَةٌ
تَسُؤْهُمْ ۚ
وَاِنْ
تُصِبْكَ
مُصِیْبَةٌ
یَّقُوْلُوْا
قَدْ
اَخَذْنَاۤ
اَمْرَنَا
مِنْ
قَبْلُ
وَیَتَوَلَّوْا
وَّهُمْ
فَرِحُوْنَ
۟
(اے نبی ﷺ اگر آپ کو کوئی اچھی بات پہنچتی ہے تو انہیں وہ بری لگتی ہے اور اگر آپ ﷺ کو کوئی تکلیف آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست کرلیا تھا اور وہ لوٹ جاتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭…
ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اچانک یہاں اس کے خلاف ہوا تو الاپ الاپ کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچتے رہے مارے خوشی کے
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭…
ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ