التوبة 9:40 الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه الذين كفروا ثاني اثنين اذ هما في الغار اذ يقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا فانزل الله سكينته عليه وايده بجنود لم تروها وجعل كلمة الذين كفروا السفلى وكلمة الله هي العليا والله عزيز حكيم ٤٠
اِلَّا
تَنْصُرُوْهُ
فَقَدْ
نَصَرَهُ
اللّٰهُ
اِذْ
اَخْرَجَهُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
ثَانِیَ
اثْنَیْنِ
اِذْ
هُمَا
فِی
الْغَارِ
اِذْ
یَقُوْلُ
لِصَاحِبِهٖ
لَا
تَحْزَنْ
اِنَّ
اللّٰهَ
مَعَنَا ۚ
فَاَنْزَلَ
اللّٰهُ
سَكِیْنَتَهٗ
عَلَیْهِ
وَاَیَّدَهٗ
بِجُنُوْدٍ
لَّمْ
تَرَوْهَا
وَجَعَلَ
كَلِمَةَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوا
السُّفْلٰی ؕ
وَكَلِمَةُ
اللّٰهِ
هِیَ
الْعُلْیَا ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
تم نے اگر نبی کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں ، اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا ، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا ، جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ " غم نہ ، اللہ ہمارے ساتھ ہے " اس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کو بول نیچا کردیا اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے ، اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آغاز ہجرت ٭٭…
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد کر لو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل یا قید یا دیس سے نکال دینے کی سازش کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سچے ساتھ
آغاز ہجرت ٭٭…
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد