اِلَّا
تَنْصُرُوْهُ
فَقَدْ
نَصَرَهُ
اللّٰهُ
اِذْ
اَخْرَجَهُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
ثَانِیَ
اثْنَیْنِ
اِذْ
هُمَا
فِی
الْغَارِ
اِذْ
یَقُوْلُ
لِصَاحِبِهٖ
لَا
تَحْزَنْ
اِنَّ
اللّٰهَ
مَعَنَا ۚ
فَاَنْزَلَ
اللّٰهُ
سَكِیْنَتَهٗ
عَلَیْهِ
وَاَیَّدَهٗ
بِجُنُوْدٍ
لَّمْ
تَرَوْهَا
وَجَعَلَ
كَلِمَةَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوا
السُّفْلٰی ؕ
وَكَلِمَةُ
اللّٰهِ
هِیَ
الْعُلْیَا ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اللہ خود اس کی مددکرچکا ہے جب کہ منکروں نے اس کو نکال دیا تھا، وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور اللہ نے منکروں کی بات نیچی کردی اور اللہ ہی کی بات تو اونچی ہے اور اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آغاز ہجرت ٭٭…
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد کر لو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل یا قید یا دیس سے نکال دینے کی سازش کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سچے ساتھ
آغاز ہجرت ٭٭…
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد