التوبة 9:38 يا ايها الذين امنوا ما لكم اذا قيل لكم انفروا في سبيل الله اثاقلتم الى الارض ارضيتم بالحياة الدنيا من الاخرة فما متاع الحياة الدنيا في الاخرة الا قليل ٣٨
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَا
لَكُمْ
اِذَا
قِیْلَ
لَكُمُ
انْفِرُوْا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
اثَّاقَلْتُمْ
اِلَی
الْاَرْضِ ؕ
اَرَضِیْتُمْ
بِالْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
مِنَ
الْاٰخِرَةِ ۚ
فَمَا
مَتَاعُ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
فِی
الْاٰخِرَةِ
اِلَّا
قَلِیْلٌ
۟
اے ایمان کے دعوے دارو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم دھنسے جاتے ہو زمین کی طرف (سوچو !) کیا تم نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو قبول کرلیا ہے ؟ تو (جان لو کہ) دنیا کی زندگی کا سازو سامان آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭…
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گ
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭…
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول ا