التوبة 9:37 انما النسيء زيادة في الكفر يضل به الذين كفروا يحلونه عاما ويحرمونه عاما ليواطيوا عدة ما حرم الله فيحلوا ما حرم الله زين لهم سوء اعمالهم والله لا يهدي القوم الكافرين ٣٧
اِنَّمَا
النَّسِیْٓءُ
زِیَادَةٌ
فِی
الْكُفْرِ
یُضَلُّ
بِهِ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
یُحِلُّوْنَهٗ
عَامًا
وَّیُحَرِّمُوْنَهٗ
عَامًا
لِّیُوَاطِـُٔوْا
عِدَّةَ
مَا
حَرَّمَ
اللّٰهُ
فَیُحِلُّوْا
مَا
حَرَّمَ
اللّٰهُ ؕ
زُیِّنَ
لَهُمْ
سُوْٓءُ
اَعْمَالِهِمْ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الْكٰفِرِیْنَ
۟۠
نَسِی تو کُفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیےجاتے ہیں۔ کسی سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کر دیتے ہیں ، تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کر دیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کر لیں۔1 ان کے بُرے اعمال ان کے لیے خوشنما بنادیے گئے ہیں اور اللہ منکرینِ حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احکامات دین میں رد و بدل انتہائی مذموم سوچ ہے ٭٭…
مشرکوں کے کفر کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کس طرح اپنی فاسد رائے کو اور اپنی ناپاک خواہش کو شریعت الہٰی میں داخل کر کے اللہ کے دین کے احکام کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنا لیتے تھے۔ تین مہینے کی حرمت کو تو ٹھیک رکھا پھر چوتھ
احکامات دین میں رد و بدل انتہائی مذموم سوچ ہے ٭٭…
مشرکوں کے کفر کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کس طرح اپنی فاسد رائے کو اور اپنی ناپاک خواہش کو شریعت ال