التوبة 9:35 يوم يحمى عليها في نار جهنم فتكوى بها جباههم وجنوبهم وظهورهم هاذا ما كنزتم لانفسكم فذوقوا ما كنتم تكنزون ٣٥
یَّوْمَ
یُحْمٰی
عَلَیْهَا
فِیْ
نَارِ
جَهَنَّمَ
فَتُكْوٰی
بِهَا
جِبَاهُهُمْ
وَجُنُوْبُهُمْ
وَظُهُوْرُهُمْ ؕ
هٰذَا
مَا
كَنَزْتُمْ
لِاَنْفُسِكُمْ
فَذُوْقُوْا
مَا
كُنْتُمْ
تَكْنِزُوْنَ
۟
ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ
باب…
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں