لِیُنْفِقْ
ذُوْ
سَعَةٍ
مِّنْ
سَعَتِهٖ ؕ
وَمَنْ
قُدِرَ
عَلَیْهِ
رِزْقُهٗ
فَلْیُنْفِقْ
مِمَّاۤ
اٰتٰىهُ
اللّٰهُ ؕ
لَا
یُكَلِّفُ
اللّٰهُ
نَفْسًا
اِلَّا
مَاۤ
اٰتٰىهَا ؕ
سَیَجْعَلُ
اللّٰهُ
بَعْدَ
عُسْرٍ
یُّسْرًا
۟۠
چاہیے کہ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کوچاہيے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرےاللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اتنا ہی جتنا اس کو دیا ہے، اللہ سختی کے بعد جلد ہی آسانی پیدا کردے گا
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“،
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہن