الطلاق 65:6 اسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن وان كن اولات حمل فانفقوا عليهن حتى يضعن حملهن فان ارضعن لكم فاتوهن اجورهن واتمروا بينكم بمعروف وان تعاسرتم فسترضع له اخرى ٦
اَسْكِنُوْهُنَّ
مِنْ
حَیْثُ
سَكَنْتُمْ
مِّنْ
وُّجْدِكُمْ
وَلَا
تُضَآرُّوْهُنَّ
لِتُضَیِّقُوْا
عَلَیْهِنَّ ؕ
وَاِنْ
كُنَّ
اُولَاتِ
حَمْلٍ
فَاَنْفِقُوْا
عَلَیْهِنَّ
حَتّٰی
یَضَعْنَ
حَمْلَهُنَّ ۚ
فَاِنْ
اَرْضَعْنَ
لَكُمْ
فَاٰتُوْهُنَّ
اُجُوْرَهُنَّ ۚ
وَاْتَمِرُوْا
بَیْنَكُمْ
بِمَعْرُوْفٍ ۚ
وَاِنْ
تَعَاسَرْتُمْ
فَسَتُرْضِعُ
لَهٗۤ
اُخْرٰی
۟ؕ
” ان کو (زمانہ عدت میں) اسی جگہ رکھوجہاں تم رہتے ہو ، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے ان کو نہ ستاﺅ۔ اور اگر وہ معاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لئے (بچے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو ، اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) باہمی گفت و شنید سے طے کرلو۔ لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلالے گی۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“،
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہن