اَسْكِنُوْهُنَّ
مِنْ
حَیْثُ
سَكَنْتُمْ
مِّنْ
وُّجْدِكُمْ
وَلَا
تُضَآرُّوْهُنَّ
لِتُضَیِّقُوْا
عَلَیْهِنَّ ؕ
وَاِنْ
كُنَّ
اُولَاتِ
حَمْلٍ
فَاَنْفِقُوْا
عَلَیْهِنَّ
حَتّٰی
یَضَعْنَ
حَمْلَهُنَّ ۚ
فَاِنْ
اَرْضَعْنَ
لَكُمْ
فَاٰتُوْهُنَّ
اُجُوْرَهُنَّ ۚ
وَاْتَمِرُوْا
بَیْنَكُمْ
بِمَعْرُوْفٍ ۚ
وَاِنْ
تَعَاسَرْتُمْ
فَسَتُرْضِعُ
لَهٗۤ
اُخْرٰی
۟ؕ
تم ان عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق رہنے کامکان دو جہاں تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لیے انھیں تکلیف نہ پہنچاؤ،اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو ان پرخرچ کرو یہاں تک کہ ان کا وضعِ حمل ہوجائےپھر اگر وہ تمھارے لیے دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انھیں دواورتم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی سکھاؤاور اگر تم آپس میں ضدکرو تو کوئی او ر عورت دودھ پلائے گی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“،
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہن