الطلاق 65:2 فاذا بلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف او فارقوهن بمعروف واشهدوا ذوي عدل منكم واقيموا الشهادة لله ذالكم يوعظ به من كان يومن بالله واليوم الاخر ومن يتق الله يجعل له مخرجا ٢
فَاِذَا
بَلَغْنَ
اَجَلَهُنَّ
فَاَمْسِكُوْهُنَّ
بِمَعْرُوْفٍ
اَوْ
فَارِقُوْهُنَّ
بِمَعْرُوْفٍ
وَّاَشْهِدُوْا
ذَوَیْ
عَدْلٍ
مِّنْكُمْ
وَاَقِیْمُوا
الشَّهَادَةَ
لِلّٰهِ ؕ
ذٰلِكُمْ
یُوْعَظُ
بِهٖ
مَنْ
كَانَ
یُؤْمِنُ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ ؕ۬
وَمَنْ
یَّتَّقِ
اللّٰهَ
یَجْعَلْ
لَّهٗ
مَخْرَجًا
۟ۙ
پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یاتو معروف کے مطابق رکھ لو یا معروف کے مطابق ان کوچھوڑدو اور اپنے میں سے دومعتبر گواہ بنالو اور ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے گواہی دویہ اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پراور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہواور جو شخص اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے راہ نکالے گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عائلی قوانین ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں
عائلی قوانین ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو