التحريم 66:3 واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا فلما نبات به واظهره الله عليه عرف بعضه واعرض عن بعض فلما نباها به قالت من انباك هاذا قال نباني العليم الخبير ٣
وَاِذْ
اَسَرَّ
النَّبِیُّ
اِلٰی
بَعْضِ
اَزْوَاجِهٖ
حَدِیْثًا ۚ
فَلَمَّا
نَبَّاَتْ
بِهٖ
وَاَظْهَرَهُ
اللّٰهُ
عَلَیْهِ
عَرَّفَ
بَعْضَهٗ
وَاَعْرَضَ
عَنْ
بَعْضٍ ۚ
فَلَمَّا
نَبَّاَهَا
بِهٖ
قَالَتْ
مَنْ
اَنْۢبَاَكَ
هٰذَا ؕ
قَالَ
نَبَّاَنِیَ
الْعَلِیْمُ
الْخَبِیْرُ
۟
(اور یہ معاملہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ) نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کی تھی۔ پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبی کو اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی ، تو نبی نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا۔ پھر جب نبی نے اُسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ کو اِس کی کس نے خبر دی ؟ نبی نے کہا”مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے۔“ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭…
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائ
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭…
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے