التحريم 66:11 وضرب الله مثلا للذين امنوا امرات فرعون اذ قالت رب ابن لي عندك بيتا في الجنة ونجني من فرعون وعمله ونجني من القوم الظالمين ١١
وَضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
امْرَاَتَ
فِرْعَوْنَ ۘ
اِذْ
قَالَتْ
رَبِّ
ابْنِ
لِیْ
عِنْدَكَ
بَیْتًا
فِی
الْجَنَّةِ
وَنَجِّنِیْ
مِنْ
فِرْعَوْنَ
وَعَمَلِهٖ
وَنَجِّنِیْ
مِنَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۙ
اور اہل ِا یمان (خواتین) کے لیے اللہ نے مثال بیان کی ہے فرعون کی بیوی کی۔ جب اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! ُ تو میرے لیے بنا دے اپنے پاس ایک گھر جنت میں اور مجھے نجات دے دے فرعون سے بھی اور اس کے عمل سے بھی اور مجھے اس ظالم قوم سے (جلد از جلد) چھٹکارا دلا دے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی) ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا “۔
جیسے اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِك
سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی) ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو