الشورى 42:40 وجزاء سيية سيية مثلها فمن عفا واصلح فاجره على الله انه لا يحب الظالمين ٤٠
وَجَزٰٓؤُا
سَیِّئَةٍ
سَیِّئَةٌ
مِّثْلُهَا ۚ
فَمَنْ
عَفَا
وَاَصْلَحَ
فَاَجْرُهٗ
عَلَی
اللّٰهِ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یُحِبُّ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 2- البقرة: 194 ] اور آیت میں ہے «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ
برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا