الشورى 42:15 فلذالك فادع واستقم كما امرت ولا تتبع اهواءهم وقل امنت بما انزل الله من كتاب وامرت لاعدل بينكم الله ربنا وربكم لنا اعمالنا ولكم اعمالكم لا حجة بيننا وبينكم الله يجمع بيننا واليه المصير ١٥
فَلِذٰلِكَ
فَادْعُ ۚ
وَاسْتَقِمْ
كَمَاۤ
اُمِرْتَ ۚ
وَلَا
تَتَّبِعْ
اَهْوَآءَهُمْ ۚ
وَقُلْ
اٰمَنْتُ
بِمَاۤ
اَنْزَلَ
اللّٰهُ
مِنْ
كِتٰبٍ ۚ
وَاُمِرْتُ
لِاَعْدِلَ
بَیْنَكُمْ ؕ
اَللّٰهُ
رَبُّنَا
وَرَبُّكُمْ ؕ
لَنَاۤ
اَعْمَالُنَا
وَلَكُمْ
اَعْمَالُكُمْ ؕ
لَا
حُجَّةَ
بَیْنَنَا
وَبَیْنَكُمْ ؕ
اَللّٰهُ
یَجْمَعُ
بَیْنَنَا ۚ
وَاِلَیْهِ
الْمَصِیْرُ
۟ؕ
چونکہ یہ حالت پیدا ہو چکی ہے اس لیے اے محمدؐ ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاوٴ، اور اِن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، 1 اور اِن سے کہہ دو کہ”اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا۔ 2 مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ 3 اللہ ہی ہمارا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ 4 ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ 5 اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے۔“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے ٭٭…
اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے۔
1 - پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے ک
تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے ٭٭…
اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس