الشعراء 26:166 وتذرون ما خلق لكم ربكم من ازواجكم بل انتم قوم عادون ١٦٦
وَتَذَرُوْنَ
مَا
خَلَقَ
لَكُمْ
رَبُّكُمْ
مِّنْ
اَزْوَاجِكُمْ ؕ
بَلْ
اَنْتُمْ
قَوْمٌ
عٰدُوْنَ
۟
Aur tumhari biwiyon mein tumhare Rubb ne tumhare liye jo kuch paida kiya hai usey chodh detey ho? Balke tum log to hadd se hi guzar gaye ho.”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہم جنسی پرستی کا شکار ٭٭…
لوط نبی علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لیے جوڑا بنا دیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب واحترام کرو۔
اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط علیہ السلام اگر تو با
ہم جنسی پرستی کا شکار ٭٭…
لوط نبی علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خوا