الصف 61:6 واذ قال عيسى ابن مريم يا بني اسراييل اني رسول الله اليكم مصدقا لما بين يدي من التوراة ومبشرا برسول ياتي من بعدي اسمه احمد فلما جاءهم بالبينات قالوا هاذا سحر مبين ٦
وَاِذْ
قَالَ
عِیْسَی
ابْنُ
مَرْیَمَ
یٰبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
اِنِّیْ
رَسُوْلُ
اللّٰهِ
اِلَیْكُمْ
مُّصَدِّقًا
لِّمَا
بَیْنَ
یَدَیَّ
مِنَ
التَّوْرٰىةِ
وَمُبَشِّرًا
بِرَسُوْلٍ
یَّاْتِیْ
مِنْ
بَعْدِی
اسْمُهٗۤ
اَحْمَدُ ؕ
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ
قَالُوْا
هٰذَا
سِحْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
1 اور یاد کرو عیسٰیؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ”اے بنی اسرائیل ، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراة کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، 2 اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔3 مگر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔ 4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو؟ “ اس میں گویا ایک طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جاتی ہے، چنانچ
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا