اَوَلَمْ
یَسِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرُوْا
كَیْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ ؕ
كَانُوْۤا
اَشَدَّ
مِنْهُمْ
قُوَّةً
وَّاَثَارُوا
الْاَرْضَ
وَعَمَرُوْهَاۤ
اَكْثَرَ
مِمَّا
عَمَرُوْهَا
وَجَآءَتْهُمْ
رُسُلُهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ ؕ
فَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِیَظْلِمَهُمْ
وَلٰكِنْ
كَانُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟ؕ
اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟1 وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا2 اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔3 ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔4 پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔5
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشا