الروم 30:9 اولم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم كانوا اشد منهم قوة واثاروا الارض وعمروها اكثر مما عمروها وجاءتهم رسلهم بالبينات فما كان الله ليظلمهم ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ٩
اَوَلَمْ
یَسِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرُوْا
كَیْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ ؕ
كَانُوْۤا
اَشَدَّ
مِنْهُمْ
قُوَّةً
وَّاَثَارُوا
الْاَرْضَ
وَعَمَرُوْهَاۤ
اَكْثَرَ
مِمَّا
عَمَرُوْهَا
وَجَآءَتْهُمْ
رُسُلُهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ ؕ
فَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِیَظْلِمَهُمْ
وَلٰكِنْ
كَانُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟ؕ
کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو کاشت کیا اور اسے آباد کیا اس سے کہیں بڑھ کر جو (آ ج) انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس بھی ان کے رسول ؑ آئے تھے کھلی نشانیاں لے کر سو اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشا