الروم 30:8 اولم يتفكروا في انفسهم ما خلق الله السماوات والارض وما بينهما الا بالحق واجل مسمى وان كثيرا من الناس بلقاء ربهم لكافرون ٨
اَوَلَمْ
یَتَفَكَّرُوْا
فِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ ۫
مَا
خَلَقَ
اللّٰهُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
وَمَا
بَیْنَهُمَاۤ
اِلَّا
بِالْحَقِّ
وَاَجَلٍ
مُّسَمًّی ؕ
وَاِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنَ
النَّاسِ
بِلِقَآئِ
رَبِّهِمْ
لَكٰفِرُوْنَ
۟
کیا یہ لوگ اپنی ذات میں غور نہیں کرتے نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک وقت معینّ تک کے لیے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشا