اَوَلَمْ
یَتَفَكَّرُوْا
فِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ ۫
مَا
خَلَقَ
اللّٰهُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
وَمَا
بَیْنَهُمَاۤ
اِلَّا
بِالْحَقِّ
وَاَجَلٍ
مُّسَمًّی ؕ
وَاِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنَ
النَّاسِ
بِلِقَآئِ
رَبِّهِمْ
لَكٰفِرُوْنَ
۟
کیا انھوں نے اپنے جی میں غور نہیں کیا، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے برحق پیدا کیا ہے اور صرف ایک مقرر مدت کے ليے اور لوگوں میں بہت سے ہیں جو اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ” موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو “۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭…
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشا