الرعد 13:26 الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر وفرحوا بالحياة الدنيا وما الحياة الدنيا في الاخرة الا متاع ٢٦
اَللّٰهُ
یَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
وَیَقْدِرُ ؕ
وَفَرِحُوْا
بِالْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ؕ
وَمَا
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَا
فِی
الْاٰخِرَةِ
اِلَّا
مَتَاعٌ
۟۠
” اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں ، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مسئلہ رزق ٭٭…
اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہو گئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کو
مسئلہ رزق ٭٭…
اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا