النور 24:3 الزاني لا ينكح الا زانية او مشركة والزانية لا ينكحها الا زان او مشرك وحرم ذالك على المومنين ٣
اَلزَّانِیْ
لَا
یَنْكِحُ
اِلَّا
زَانِیَةً
اَوْ
مُشْرِكَةً ؗ
وَّالزَّانِیَةُ
لَا
یَنْكِحُهَاۤ
اِلَّا
زَانٍ
اَوْ
مُشْرِكٌ ۚ
وَحُرِّمَ
ذٰلِكَ
عَلَی
الْمُؤْمِنِیْنَ
۟
بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ
زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب